جنوبی افریقہ کے مشہور مفتی ابراھیم ڈیسائی صاحب کا 15 جولائی کو ڈربن میں انتقال ہواـ پچھلے کئی روز سے ان کی طبیعت خراب چل رہی تھی


مفتی ابراھیم جامعہ ڈابھیل کے فاضل اور مفتی محمود حسن گنگوہی کے خلیفہ مجاز تھےـ انہوں نے 90 کے اوائل "AskImam" فتویٰ پورٹل شروع کیا اور 2011 میں دار الافتاء محمودیہ قائم فرمایاـ وہ مدرسہ تعلیم الدین اسپینگو بیچ میں دس سال تک خدمتِ تدریس میں رہے اور پھر اگلے دس سال مدرسہ انعامیہ میں شیخ الحدیث رہےـ


مفتی ابراھیم ڈیسائی جمعیتہ العلماء کے-زیڈ-این کے شعبہ فتویٰ کے صدر مفتی بھی رہے ہیں. ان کے فتاویٰ Contemporary Fatawa کے نام سے چار جلدوں میں شائع ہوئے ہیں. ان کی کئی اور تصانیف ہیں. ان کے شاگرد عالمِ اسلام میں پھیلے ہوئے ہیں جن میں مفتی فیصل المحمودی، مفتی اسمعیل موسیٰ، مفتی ابرار مرزا مشہور ہیں. مفتی صاحب کی پیدائش 16 جنوری 1963 کو کے-زیڈ-این کے علاقہ رچمانڈ میں ہوئی تھی. ان کی وفات پر یاسر ندیم الواجدی، مفتی محمد آدم الکوثری اور دیگر علماء نے غم کا اظہار کیاـ


واضح رہے کہ ابراہیم نام سے افریقہ میں رہنے والے تین معروف بزرگ علماء جانے جاتے ہیں ایک ہیں حضرت مولانا ابراہیم صاحب پانڈور جو شیخ زکریا رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ ہیں، دوسرے ہیں حضرت مفتی ابراہیم صاحب صالح جی جو مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ کے خلیفہ ہیں اور تیسرے حضرت مفتی ابراہیم ڈیسائی صاحب تھے، یہ بھی حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ کے خلیفہ تھے جن کا گذشتہ کل یعنی 15 جولائی 2021ء کو انتقال ہوگیا ہے۔


سبھی حضرات سے دعائے مغفرت و ایصال ثواب کی درخواست ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے